Friday, December 03, 2021

Gujarat

کردار ، شعور ، صلاحیت ، رویہ ، ہمدردی، محنت اور ڈسپلن کامیابی حاصل کرنے کے اہم معیارات ہیں: نائب صدر جمہوریہ

November 25, 2017 09:28 PM

 

کردار ، شعور ، صلاحیت ، رویہ ، ہمدردی، محنت اور ڈسپلن کامیابی حاصل کرنے کے اہم معیارات ہیں: نائب صدر جمہوریہ 

نائب صدر جمہوریہ نے ایس آر ایم یونیورسٹی کے خصوصی سالانہ جلسے 2017 سے خطاب کیا 

نئیدہلی۔24؍نومبر۔نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ کردار، شعور، صلاحیت، رویہ، ہمدردی، محنت اور ڈسپلن کامیابی حاصل کرنے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے اہم طریقے ہیں۔ وہ تملناڈو کے شہر چنئی میں ایس آر ایم یونیورسٹی کے خصوصی جلسہ تقسیم اسناد 2017 سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر جناب بنواری لال پروہت ، تمل ناڈو اعلیٰ تعلیم کے وزیر جناب کے پی انبالگن اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت میں اعلیٰ تعلیم کا وژن یہ ہے کہ ملک کی انسانی وسائل کی صلاحیت کو مساویانہ اور سب کو شامل کرتے ہوئے پوری طرح استعمال کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اہم وسیلہ   سبھی طبقوں  خاص طور پر سماج کے کمزور طبقوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بھارت میں اعلیٰ تعلیم ایسی توسیع کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ  طلباء کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور سرکاری فنڈنگ کی سطح میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم ایک واحد سب سے اہم عنصر ہے جس کے ذریعے ہماری نوجوان آبادی ایک قومی اثاثے میں تبدیل ہوتی ہے۔ اگر ہمارے ملک کی نوجوان پیڑھی بااختیار بن جائے تو یہ آنے والے برسوں کیلئے بہت ہی مضبوط اور پیداواریت والی ورک فورس بن جائے گی۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کوکبھی ’وشوگرو ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ تعلیم کا عالمی مرکز  تھا، کیوں کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ  یہاں علم حاصل کرنے آتے تھے۔ لوگ یہاں تکش شیلا ، نالندہ اور دیگر مرکزوں میں مطالعے کیلئے آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، مغلوں کے داخلے  اور برطانوی نو آبادیات کے بعد صورتحال بدل گئی اور اب بھارت کیلئے وقت آیا ہے کہ وہ  علم کا ایک عالمی مرکز بن کر اُبھرے۔

نائب صدر جمہوریہ نے مہاتما گاندھی کا قول دوہرایا’’کہ تعلیم کے ذریعے ، میرا مطلب ہے کہ بچے اور آدمی میں جسمانی ، ذہنی اور جذبے کے اعتبار سے اس کی شخصیت کی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار آنا چاہئے‘‘۔ ’’جو تعلیم کردار سازی نہیں کرتی وہ پوری طرح بیکارہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ مہاتما نے بجا طور پر زور دیکر کہا تھا کہ کردار کسی فرد کی اہم ترین  خاصیت ہوتی ہے جس سے وہ صحیح راستہ اختیار کرتا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ کے خطاب کا متن مندرجہ ذیل ہے:

’’ میں ان سبھی طلباء کو مبارکباد دیتا ہوں جو آج اپنے ڈگری حاصل کررہے ہیں اور مواقع اور چیلنجز کی نئی دنیا میں داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔

بھارت میں اعلیٰ تعلیم کا وژن یہ ہے کہ ملک کے انسانی وسائل کی صلاحیت کو مساویانہ اور سب کو شامل کرتے ہوئے بروئے کار لایا جائے۔ بنیادی طور پر اس کا مطلب ہے کہ سبھی طبقوں خاص طور پر سماج کے کمزور طبقوں کو اعلیٰ تعلیم اور زیادہ فراہم کرائی جائے ۔

انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے اپنے طور پر بہت سی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ جن میں سب کو شامل کرنے والی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور یونیورسٹیوں کی مہارت کے مرکز کے طور پر نشاندہی کا عمل شروع کردیاگیا ہے جن میں بہت سی پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔ حکومت اساتذہ کے پیشے کیلئے بہترین صلاحیتوں کو راغب کی متمنی ہے۔

بھارت میں اعلیٰ تعلیم توسیع کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔ جس میں طلباء کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ اداروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور سرکاری رقوم کی سطح میں بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ طلباء کو اعلیٰ معیاری تعلیم کے مساویانہ مواقع فراہم کرناایک تاریخی موقع بھی ہے ۔ جس کے تحت طبقاتی اور سماجی عدم توازن کو ٹھیک کیا جائے ، اداروں میں نئی جان ڈالی جائے، مہارت کے نئے معیارات مقرر  کئے جائیں اور علم کے  نئے محاذ  کھولے جائیں۔

تعلیم ایک واحد سب سے اہم عنصر ہے جس کے ذریعے اپنی نوجوان آبادی کو ایک قومی اثاثے میں تبدیل کیاجاسکتا ہے۔ اگر ہمارے قوم کی نوجوان  پیڑھی بااختیار بن جاتی ہے تو یہ آنے والے برسو ں میں ایک مضبوط اور پیداواریت والی ورک فورس بن جائے گی۔

آج روزگار کی مارکیٹ میں سبھی سطحوں پرایک ساتھ کئی کام کیاجانا لازمی ضرورت بن گئی  ہے۔ مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں کو فوراً اختیار کرنا وہ خاصتیں ہیں جن کی توقع ہر ایک فرد سے کی جاتی ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے اور یونیورسٹیوں کو تعلیم دینے کے طور طریقوں میں تبدیلی لانی ہوگی اور ایسے نصابات اختیار کرنے ہوں گے جو وقت کے مطابق ہوں۔ اساتذہ کو اپنے علم میں لگاتار اضافہ کرنا ہوگا اور ہر معاملے میں آئی سی ٹی سی کے فوری استعمال کے بارے میں جاننا ہوگا۔

میں ٹیکنالوجیکل جدت اور ڈیجیٹل انقلاب کا شکر گزار ہوں ، دنیا اتنی رفتار سے تبدیل ہورہی ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی اور طلبا  ء اداروں  سے اعلیٰ تعلیم  حاصل کررہے ہیں۔ ان  میں اُبھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کی جانی چاہئے اور ان میں تجزیاتی ہنر ، تنقیدی نظریہ ، خلاقی  اور اختراعی نظریات کے معنوں میں بھی صلاحیت پیدا کی جانی چاہئے۔

یہ یاد رکھا جانا چاہئے کہ یونیورسٹیاں کل کے طلباء تیار  کررہی ہیں۔ جہاں ضروری ہو ، روایتی تعلیمی طریقوں کو نئے طریقوں سے بدلنا ہوگا کیونکہ کسی بھی میدان میں ترقی کیلئے تبدیلی ہی ایک عنصر ہے۔ جس طریقے سے طلباء  کو پڑھا یا جاتا ہے اس کا جائزہ لیے جانے کی ضرورت ہے اور اس میں بہتری لائے جانے کی ضرورت ہے۔ کلاس رومز طلباء کیلئے جذبہ پیدا کرنے وا لے اورسیکھنے کیلئے بات چیت کا مرکز ہونے چاہئیں نہ کہ ایسی اخلاقی تقریروں کے مرکز ہوں جن میں استاد ہی کو مرکزیت حاصل ہو۔

اسی طرح وقت آگیا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کیا یادداشت کی بنیاد پر امتحانات مقصد حل کررہے ہیں؟ میں چاہوں گا کہ تعلیمی نظام میں شامل ہر فریق ، پالیسی ساز ، وائس چانسلرز ، بچوں کی تعلیمی نفسیات کے ماہرین، لیکچررز  اور طلباء ، نئے نظریات پیش کریں اور مشورے دیں  کہ اس ڈیجیٹل دور کی ضرورتوں کیلئے مناسب نصاب کیسے بنایاجائے۔

بھارت کو کبھی ’وشو گرو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ دنیا کے کونے کونے سے علم حاصل کرنے والوں کا عالمی مرکز تھا۔ وہ لوگ سیکھنے کیلئے تکش شیلا، نالندہ اور دیگر مرکزوں میں مطالعے کیلئے آتے تھے۔ بغیر اس بات پر تکیہ کیے کہ مغلوں کی آمد اور برطانوی نوآبادیات کے بعد کس طرح صورتحال تبدیل ہوئی۔ میں زور دیکر کہنا چاہوں گا کہ اب بھارت کیلئے وقت آگیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر علم کا عالمی مرکز  بن کر اُبھرے۔

یہ سب کچھ کرنے کیلئے سیکھنے کے مراکز خاص طور پر یونیورسٹیوں کو اپنے پڑھانے کے طریقوں اور اپنی کارکردگی   میں جلا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز طلباء کو ان کی پسند کے پیشوں میں جانے کی ضرورت ہے اور انہیں اس کا اہل بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا روزگار آپ پیدا کریں۔ مختلف پیشہ ورانہ مواقع کی تلاش کی کوئی انتہا نہیں اور صحیح تعلیم کی فراہمی ملک کے لئے اہم ترین  پہلو  ہے کہ وہ  آبادی کے لحاظ سے پورا پورا فائدہ اٹھائے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا مہارت حاصل کرنے کیلئے جدید تعلیمی نظام اس بات میں ناکام ہورہا ہے کہ وہ لوگوں کی ایسی شخصیت بنائے جو ہر  لحاظ سے صحیح ہو اور جو اخلاقی اقدار سےبھی وابستہ رہے۔ کیا علم کے  حصول کا مقصد محض ڈگری یا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا؟ یقیناً نہیں۔ لیکن والدین اور طلباء کے ذہنوں میں  اس طرح کا رجحان پیدا ہوگیا ہےاور اس میں تبدیلی لانی ہوگی۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم  خانوں میں بٹے ہوئے اس طرح کے خیال سے باہر آئیں۔ درحقیقت ہر طالب علم جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے  اسے مختلف میدانوں میں ایک انقلابی انسان ہونا چاہئے ۔

 مہاتما گاندھی کا قول ہے ’’کہ تعلیم کے ذریعے ، میرا مطلب ہے کہ بچے اور آدمی میں جسمانی ، ذہنی اور جذبے کے اعتبار سے اس کی شخصیت کی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار آنا چاہئے‘‘۔ ’’جو تعلیم کردار سازی نہیں کرتی وہ پوری طرح بیکارہے‘‘۔جیسا کہ مہاتما نے بجا طور پر زور دیکر کہا تھا کہ کردار کسی فرد کی اہم ترین  خاصیت ہوتی ہے جس سے وہ صحیح راستہ اختیار کرتا ہے۔ورنہ بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود  یہ خطرہ ہے کہ کوئی فر دبیکار ہوجائے۔ عظیم تمل شاعر اور فلاسفر تروولّور نے کہا تھا کہ ’’ایک غیرتعلیم یافتہ شخص ایک بنجر زمین کی طرح ہے۔ اس کی زندگی خالی اور بیکار ہے۔‘‘

میرے عزیز نوجوان دوستو، برائے کرم یاد  رکھو کہ کردار ، شعور ، صلاحیت، رویہ، ہمدردی ، محنت اور ڈسپلن کامیابی حاصل کرنے  اور خوابوں کو پورا کرنے کی اہم خاصیتیں ہیں۔

یہ تمہاری زندگی میں ایک اہم دن ہے اور ایک موقع ہے کہ تم اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرو ۔کامیابی حاصل کرنے کیلئے چھوٹے راستوں کے بارے میں مت سوچو۔ فوری تیار کی جانے والی کافی کی طرح فوری کامیابی نہیں ملتی۔ سنجیدگی ، صبر ، خود کو وقف کردینا اور اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا، کامیابی کی طرف آخر کار لے جاتا ہے۔ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی طرح خواب دیکھو، جیسا کہ وہ خود کہا کرتے تھے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ زندگی کی اُن پہلوؤں میں بھی کوشش کی جائے جن میں کوشش کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی لیکن تمہیں جذبے ، عزم ، پوری آمادگی اور خود پر یقین کرتے ہوئے ان نشانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

دوستو، بھارت ایک بڑی اقتصادی طاقت بن کر اُبھرنے والا ہے ۔ یہاں بہت سے موقع ہیں اور تم سبھی کو ان موقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایک نئے بھارت کی تعمیر میں تعاون دینا چا ہئے۔ ایک ایسا بھارت جو بدعنوانی ، غریبی، ذات پات، مذہبی بنیاد پرستی اور صنفی تفریق سے آزاد ہو۔ اس عالمگیریت والی علم کی بنیاد والی معیشت میں بھارت کواپنی امتیازی طور پر تعلیم یافتہ نوجوان آبادی کی وجہ سے یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ دنیا کے ملکوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرلے۔ آئیے ہم اس نشانے کو حاصل کرنے کیلئے مل کر کوشش کریں۔

ریسرچ اور اختراع  کسی  یونیورسٹی کی کارکردگی پرکھنے کے اہم معیار بن گئے ہیں۔ ایس آر ایم یونیورسٹی نے معیاری تعلیم فراہم کرکے بھارت میں نجی یونیورسٹیوں میں ایک نام پیدا کیا ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ  یہ یونیورسٹی  ہر سال 15  کروڑ روپے سے زیادہ کے وظیفوں کی پیشکش کرتی ہے۔ اس سے یونیورسٹی کے مینجمنٹ کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ پڑھا ئی لکھائی میں ذہین اور  سماج کےمعاشی طور پر پسماندہ طبقوں کے بچوں تک  رسائی حاصل کرتی ہے۔ میں چانسلر کے سماجی  وژن  اور سخاوت  کی تعریف کرتا ہوں۔

پیارے دوستو، یہ آپ سب کے لئے فخر کا لمحہ ہے کہ آپ نے ایک با وقار  یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور وہ ہنر حاصل کیا  جس سے آپ اپنے مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں۔ آپ کا سفر محض ڈگری حاصل کرنے تک محدود رہنا چاہئے بلکہ آپکو اپنی زندگی میں بڑی چیزیں حاصل کرنے کی طرف بڑھنا چاہئے۔ آج آپ  اپنے ساتھ نہ صرف علم لیکر جا رہے ہیں بلکہ آپ اپنے ساتھ بہت سارے ہنر لے کر جا رہے ہیں جو آپکو اس ادارے نے دئے ہیں۔جیسے جیسے آپ آگے بڑھیں گے زیندگی آپکہ بھت سے موقعے  اور امکانات فراہم کریگی۔ عکم اور عقل دونوں ہی اہم ہیں۔ ایک آپکو آپکی زیندگی میں گزر بسر کی سہولت فراہم کرتی ہے  تو دوسری آپکی زیندگی بنانے میں۔

نیک خواہشات۔ جئے ہند۔

 

Have something to say? Post your comment